ابنا: مزید اطلاعات کے مطاق متعصب انتظامیہ نے 18 مارچ کو شھید ہونے والے شیعہ رھنماء رازق علی کی ایف ۔ آئی ۔ آر درج کرنے سے انکار کر دیا۔ شھید رازق علی کے جلوس جنازہ میں ورثاء سمیت مومنین نے شدید احتجاج کیا اور جلوس جنازہ کو علامتی دھرنے میں بھی تبدیل کیا۔ لیکن کسی صورت انتظامیہ نے مقتولین کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔اور دھشتگردون کی پشت پناہی اور شیعہ تعصب کا منہ بالتا ثبوت پیش کیا۔
یاد رہے اس سے قبل بھی ڈی سی او ہنگو کا طالبان اور کالعدم سپاہ صحابہ سے رابطوں کا انکشاف منظر عام پر آچکا ہے۔اور یہ بات بھی منظر عام پر آچکی تھی کہ ڈی سی او ہنگو طالبان کالعدم سپاہ صحآبہ سے نہ صرف یہ کہ راطہ میں ہیں بلکہ ان تک اہم اور خفیہ معلومات پہچانے کا کام بھی انجام دے رہے ہے۔
یاد رھے انتظامیہ کا یہ متعصبانہ رویہ کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستان کی ہر گلی اس بات کی گواہ ہے کہ ہر دور میں ھماری ملت ہی ظالموں کی گولیوں کا نشانہ بنی ہے۔ اور اس کے بعد گرفتاریاں، پرامن احتجاج پر تشدد اور مقدمات درج کرنے سے انکار کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستان کی عوام کے تحفظ کی دعویدار یہ نام نہاد سیکیورٹی ایجنسیاں ھمیشہ ان درندہ صفت شیطانوں کی حمایت کرتے ہوئے نطر آئی ہیں۔.......
/169